asian Garden by Enatsu Garden Architect / 江夏庭苑事務所

ایک باغ کیسے ڈیزائن کیا جائے

Resham Ejaz Resham Ejaz
Loading admin actions …

باغ کے جنگلے کن اقسام میں پائے جاتے ہیں؟

اگر آپ کو لگتا ہے کہ باغ کے جنگلوں کی اقسام کی کوئی حد ہے تو یہیں آپ غلط ہیں۔ یہ لکڑی کی سارے باغ کے گرد پھیلی دیوار بھی ہو سکتی ہے تو بید کو گوندھ کر بنائی گئی باڑ بھی۔ جہاں پلاسٹک کے ٹکڑے جوڑ کر اسے صنعتی انداز دیا جا سکتا ہے وہیں لکڑی کے تختوں سے بنائے گئے دیہی انداز کے جنگلے کا بھی کوئی ثانی نہیں۔ اگر چاہیں تو بانس جوڑ کر اپنے باغ کی حفاظت کے لیے جنگلہ بنائیں یا سب سے منفرد ہو جائیں اور پتھر کی دیوار بنائیں۔

جیسا کہ ہم نے کہا انتخابات بے شمار ہیں۔ بس آپ کو وہ ڈیزائن چننا ہے جو آپ کے گھر اور ارد گرد کے علاقے کی مناسبت سے آپ کے لیے مدد گار ثابت ہو۔ جیسا کہ اگر آپ باہر شہر کے منظر سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو یہ جنگلہ چھوٹا بنائیں، مگر اگر آپ ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں گھر پاس پاس بنے ہیں اور آپ پرائیویسی پر سمجھوتہ نہیں چاہتے تو اونچی دیوار آپ کے لیے بہتر ہے۔

مجھے ایک چھوٹا باغ بنانے کے لیے تجاویز کہاں ملیں گی؟

ہو سکتا ہے کہ آپ کے گھر کی بیرونی جگہ چھوٹی ہو اور آپ وہاں باغ کی تعمیر کو لے کر تذبذب کا شکار ہوں۔ تو پریشانی کی کو‏ئی بات نہیں! ہومی فائی آپ کے لیے بے شمار ایسی تجاویز لایا ہے جنہیں پڑھنے کے بعد آپ مزید ایک لمحہ بھی سرسبز و شاداب قدرت سے دور نہیں رہنا چاہیں گے۔ 

سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ چھوٹے باغ  کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اس میں اونچے اونچے درخت نہیں لگا سکتے۔ بہتر یہ ہو گا کہ آپ درخت اور بڑے پودے دیوار کے ساتھ ساتھ لگائیں تا کہ وہ آنے جانے کے راستے میں رکاوٹ پیدا نہ کریں۔ اگر آپ کو باغ کی صفائی مشکل لگتی ہے تو آپ درمیان میں گھاس کے بجائے ایک لکڑی کا عرشہ بھی لگا سکتے ہیں جو خوبصورت نظر آنے کے ساتھ ساتھ آپ کا کام بھی گھٹائے گا۔

میرے بیرونی باغ کے لیے کون سا ڈیزائن بہتر ہے؟

اس سوال کا جواب آپ کے گھر کی بناوٹ اور باغ کے سائز پر منحصر ہے۔ اگر آپ کا گھر دیہی انداز میں بنا ہے تو لکڑی کا استعمال اور وافر مقدار میں لگے جنگلی پھول پودے اس کے باغ کی رونق بڑھائیں گے۔ جدید اور صنعتی انداز کے گھروں کے باغات کے لیے پتھر اور گملوں کا استعمال بہتر سمجھا جاتا ہے کہ یہ جگہ کو حسن کے ساتھ ساتھ جدت بھی عطا کرتے ہیں۔ 

باغ میں فرنیچر ہمیشہ اس کے سائز کی مناسبت سے رکھیں۔ چھوٹے باغ میں کم سے کم فرنیچر رکھا جانا چاہیے تا کہ پھول پودوں کی نشو نما میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ شوخ رنگوں کا فرنیچر ہمیشہ ایک باغ کو مزید خوشگوار بناتا ہے۔ 

ایک بڑے باغ میں آپ تالاب بھی بنوا سکتے ہیں جو ایک خوشنما اضافہ ہو گا۔ مگر اگر آپ کے باغ میں اتنی جگہ نہ ہو اور آپ پانی کے دلدادہ ہوں تو آپ دیوار میں چھوٹی سی مصنوعی آبشار بھی بنوا سکتے ہیں۔

میں اپنے پھول پودوں کو لمبی زندگی کیسے دوں؟

یہ سوچ طلب سوال ہے۔ کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ پودوں کی زندگی بہت چھوٹی ہوتی ہے۔ اگر ان کی درست انداز میں دیکھ بھال نہ کی جائے تو یہ بہت جلدی مرجھا جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ انہیں وقت پر پانی ڈالا جائے اور انہیں ایسے رخ پر رکھا جائے کہ ان پر دن کے مخصوص اوقات میں دھوپ پڑے کیوں کہ سارا دن دھوپ میں رہنے سے یہ جل بھی سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ فالتو جھاڑیوں اور مرجھائے ہوئے پتوں کی کاٹ چھانٹ بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ یاد رکھیے کہ پودے بھی ہماری طرح سانس لیتے ہیں۔ محبت، توجہ اور دیکھ بھال ہی ان کی لمبی عمر کا راز ہے۔

باغ کے لیے اہم لوازمات

آخری اور سب سے اہم سوال جو آپ کو پریشان کیے رکھتا ہے، باغ کے لیے ضروری لوازمات کا چناؤ ہے۔ یاد رکھیے کہ آپ کے باغ کی حقیقی خوبصورتی اس کے پھول پودے ہیں، سو آپ نے تمام سجاوٹ انہیں ہی مدنظر رکھ کر کرنی ہے۔ یہ خیال رکھیے کہ کہیں آپ کے بڑے فرنیچر یا بہت تیز روشنیوں سے ان کی دلکشی ماند نہ پڑ جائے۔

باغ کے لیےہلکا اور آرام دہ فرنیچر چنیں جہاں بیٹھ کر آپ قدرت کے حسن کو جی بھر کر سراہ سکیں۔ روشنیاں مدھم ہوں جو ایک خوابناک ماحول تخلیق کریں۔ کچھ لوگ باغ میں ایک چھوٹا سا آتش دان بھی بنواتے ہیں جو سرد مہینوں میں ایک نعمت معلوم ہوتا ہے۔ 

آخر میں باغ کی سب سےاہم سجاوٹ کے لیے دیکھیے: ۸ آسانی سے بنائے جا سکنے والے گملے۔

modern Houses by Casas inHAUS

Need help with your home project? Get in touch!

Discover home inspiration!