غسلخانے سے تلچھٹ اور کائی صاف کرنے کے طریقے

Request quote

Invalid number. Please check the country code, prefix and phone number
By clicking 'Send' I confirm I have read the Privacy Policy & agree that my foregoing information will be processed to answer my request.
Note: You can revoke your consent by emailing privacy@homify.com with effect for the future.

غسلخانے سے تلچھٹ اور کائی صاف کرنے کے طریقے

زنیرہ رئیس زنیرہ رئیس
by design studio by Mariya Rubleva Classic
Loading admin actions …

گھر کے باقی کمروں کی طرح غلسخانے میں بھی گرد اور جراثیم اکھٹے ہو جاتے ہیںکیونکہ وہاں نمی اور پانی موجود ہوتے ہیں۔ اسلئے غسلخانے کی بروقت اور متواتر صفائی کی بہت ضرورت ہوتی ہے تاکہ کائی اور تلچھٹ  (Lime)سے بچا جا سکے۔ اگر احتیاط نہ کی جائے تو یہ چیزیں نا ختم ہونے والے نشانات چھوڑ جاتی ہیں۔ نہانے کے ٹب اور شاور سب سے متاثرہ جگہیں ہوتی ہیںلیکن اگر باقاعدگی سے احتیاط کی جائے تو ان سے بچا جا سکتا ہے۔ احتیاط کے چند طریقے ہم نے درج ذیل مضمون میں بیان کئے ہیں۔ 

تلچھٹ اور کائی صاف کرنے کی وجوہات

سب سے پہلے آئیے دو قسم کی گرد کے بارے میں بات کرتے ہیں جو کسی بھی غسلخانے کو متاثر کر سکت ہے چاہے وہ کتنا ہی شاندار کیوں نہ ہو۔ سب سے پہلے تو تلچھٹ ہے جسکو عرفِ عام میں لائم بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عموماً نالیوں، ٹائلوں اور شیشوں کے اردگرد جم جاتا ہے ۔ اسکی وجہ سے ان کے اوپر ایک تہہ سی بچھ جاتی ہے  اور ان کی چمک ماند پڑنے لگتی ہے۔  صفائی صحت اور صاف ستھرا لگنے کے لئے ضروری ہے مگر چیزوں کے صحیح کام کرنے کے لئے بھی ضروری ہے کیونکہ اگر یہ نالیوں یا شاور کے اردگرد جم جائے تو انکے صیح طرح سے کام میں رکاوٹ بنتی ہے۔ دوسرل قسم کائی کی ہے جسمیں زندہ رہنے والے بیکٹریا جنم لیتے رہتے ہیں اور یہ انسانی صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ اسلئے اسکو باقاعدگی سے صاف کرناضروری ہے۔ ایسا کرنے میں سہولت بھی ہے کیونکہ کائی کے نشانات جتنے پرانے ہوجائیں انکو دور کرنا اتنا ہی مشکل ہوجاتا ہے۔ اسلئے یہ آسان ہوتا ہے کہ انکو ساتھ ساتھ صاف کرتے جائیں۔

ہائیڈروجن پر آکسائیڈ اور ایمونیا سے صفائی کے طریقے

یہ دونوں اشیاء کائی کو صاف کرنے کے لئے انتہائی موثر ہیں خاص طور پر وہ کائی کو ٹائلوں اور شاور کے جوڑوں میں جم جاتی ہے.دونوں میں فرق یہ ہے کہ ایمونیا کیمیائی مواد ہے جنکہ ہائیڈروجن پر آکسائیڈ نہیں۔ ایمونیا آپ کو مخصوص دوکانوں سے خریدنا پڑتا ہے جبکہ ہائیڈروجن پر آکسائیڈ دوائیوں کی عام دوکانوں سے بھی مل جاتا ہے ( 3٪ مانگیں)۔ اسکے علاوہ بھی ان میں فرق پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ہائیڈروجن پر آکسائیڈ سطحوں سے کائی صاف کرنے کے لئے موثر ہے جبکہ ایمونیا ٹائلوں اور شیشوں کے لئے بہتر رہتا ہے۔ دونوں کے استعمال کا طریقہ ایک ہی ہے۔ دونوں کو متاثرہ جگہ پر سپرے کیا جاتا ہے (اگر آپ ایمونیا استعمال کر رہے ہیں تو اسکو پانی میں ملا لیں)، انکو خشک ہوانے دیں اور بھی جگہ کو صاف کپڑے کی مدد سے پونچھ دیں۔ 

سرکے اور نمک سے صفائی

حقیقت یہ ہے کہ لائم یا اس قسم کی دوسری گندگیوں کو صاف کرنے کے لئے سرکے سے بہتر کوئی جگہ نہیں۔ بازار میں تلچھٹ کو صاف کرنے کی جتنی مصنوعات دستیاب ہیں ان سب میں سرکے کا استعمال لازمی ہوا ہوتا ہے۔ تلچھٹ سب سے زیادہ شاور یا شیشوں کے اردگر جمع ہوتی ہے مگر نالیاں اور ٹائلیں بھی اس سے محفوظ نہیں۔ ان سب کی صفائی کے لئے سرکے اور نمک کا پانی میں ملا کر محلول بنا لیں اور ایک صاف کپڑے کو اسمیں ڈبو کر متاثرہ جگہوں پر رگڑیں۔ شیشوں کی اندرونی سطحوں پر تلچھٹ جمی ہوتی ہے مگر اسی محلول سے آپ سامنے کا حصہ بھی صاف کرسکتے ہیں۔ وہ بھی چمک اُٹھے گا۔ 

ہائیڈروکلورک ایسڈ سے تفصیلی صفائی

ہائیڈروکلورک اسیڈ؟ کیا؟ یہ تو کیمیائی مواد ہے تو پھر یہ گھروں کی صفائی کے لئے کیوں استعمال کیا جارہا ہے؟اسکا ایک اور نام بھی ہے ۔ اسکو مورین ایسڈ(Murine Acid) بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن نام سے دھوکہ کھانے کی ضرورت نہیں۔ نام کوئی بھی ہو یہ بہت طاقتور محلول اسلئے اسکو شاور اور باتھ ٹب کے اردگرد جمی ڈھیٹ کائی کی صفائی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ 

سب سے پہلی نصیحت یہ ہے کہ اسکو بہت دھیان اور احتیاط سے استعمال کریں۔ جب آپ اسکو استعمال کر رہے ہوں تو اس بات کا خیال رکھیں کہ ہوا کی آمد و رفت باقاعدگی سے ہو رہی ہو۔ دستانے پہننے مت بھولیں ۔ نا صرف صفائی کرتے وقت بلکہ پانی کے ساتھ اسکو محلول بناتے ہوئے بھی۔ تین حصے پانی استعمال کریں اور ایک حصہ مورین ایسڈ کا ۔ متاثرہ حصے پر انتہائی احتیاط سے استعمال کریں اور کوشش کریں کہ چھینٹے نہ پڑیں۔ ایک گھنٹے تک اسکو لگا رہنے دیں اور پھر کسی برش کی مدد سے صاف کرلیں۔ کھُلے پانی سے اسکو دھولیں ۔ تھوڑی سے ہوا اسمیں سے گزرنے دیں اور بھی کسی صاف کپڑے سے اسکو پونچھ لیں۔ 

صفائی کے دوسرے طریقے

ان حصوں کے علاوہ بھی غسلخانے میں بہت سے حصے ایسے ہوتے ہیں جنمیں لائم اور کائی لگنے کا خدشہ ہوتا ہے ۔ یہ دونوں چیزیں انسانی صحت کے لئے انتہائی خطرناک ہیں خصوصاً ان سے سانس کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ انکے تدارک کے کچھ اور طریقے کچھ یوں ہیں؛ ٹائلوں اور شیشوںکو ڈٹرجنٹ سے صاف کرنے سے تلچھٹ اور کائی تو صاف ہوجاتی ہے مگر اس سے پھپھوندی کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ وہ وہیں رہتی ہے۔ اسکے لئے قدرتی طور پر کچھ اشیاء دستیاب ہیں جیسا کہ ٹی-ٹری آئل (Tea Tree Oil)۔ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ آپ باقاعدگی سے غسلخانے کی مفصل صفائی کرتے رہیں تاکہ کائی کا مسئلہ اتنا نا بڑھی کہ وہ آپکے لئے دردِ سر بن جائے۔ اگر مسئلہ آپکے ہاتھوں سے نکل جائے تو بھی ماہرین کی مدد حاصل کرلیں کو کہ پیشہ ورانہ طریقے سے ان سے آپکی جان چھڑائیں گے۔ 

احتیاطی تدابیر اختیار کریں

کائی نمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اگر نہانے کے بعد غسلخانے میں پانی کھڑا رہے یا ٹائلوں میں بھاپ جذب ہوتی رہے تو غسلخانے میں کائی جمنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اگر کائی جم جائے تو اوپر بیان کئے گئے طریقوں کی مدد سے اسکو صاف کرلیں۔ مگر کچھ احتیاطی تدابیر بھی اختیار کی جاسکتی ہیں۔ تاکہ کائی یا تلچھت جمے ہی نہیں۔ سب سے پہلی احتیاط تو یہ ہے کہ نہانے کے بعد فالتو پانی خشک کردیں۔ آپ بوریکس پاؤڈر کی مدد سے بھی غسلخانے کی صفائی کرسکتے ہیں۔ اس سے کائی جمنے کے امکانات کم ہونگے ۔ اور سب سے بڑی احتیاط یہ ہے کہ متوجہ رہیں۔ جیسے ہی تلچھٹ جمع ہونے ، کائی جمنے یا پھپھوندی لگنے کے آثار نظر آئیں فوری طور پر اسکا سدِ باب کرلیں۔ 

Modern houses by Casas inHAUS Modern

Need help with your home project?
Get in touch!

Discover home inspiration!